آدھا افغانستان طالبان کے کنٹرول میں، روزانہ 45اہلکار ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں، فوج کی صورتحال انتہائی مخدوش،امریکہ و اتحادی ناکام ہوگئے

کابل(آئی این پی) افغانستان کے صوبے فارہ میں طالبان کی جانب سے کیے گئے ہولناک حملے کے نتیجے میں افغان پولیس کے 30 اہلکار ہلاک ہوگئے،طالبان آدھے سے زیادہ افغانستان پر قابض ہیں، روزانہ 45 کے قریب افغان پولیس اہلکار اور فوجی روزانہ کی بنیادپر ہلاک اور زخمی کیے جارہے ہیں،فوج میں بھرتی کی صورتحال مخدوش ہے، کوئی جوان فوج میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبے فارہ میں طالبان کی جانب سے کیے گئے ہولناک حملے کے نتیجے میں افغان پولیس کے 30 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ طالبان کی جانب سے

تقریبا روزانہ کی بنیاد پر ہی ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری اداروں، تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔خیال رہے کہ طالبان گزشتہ کچھ عرصے میں ایک مرتبہ پھر منظم ہو کر آدھے سے زیادہ افغانستان پر قابض ہوچکے ہیں تاہم انہوں نے حالیہ حملے کے حوالے سے کوئی موقف نہیں دیا۔حملے تسلسل سے جاری ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ باقاعدہ بنیادوں پر زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کے اعداد و شمار فراہم کرنے سے قاصر ہے تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 45 کے قریب افغان پولیس اہلکار اور فوجی روزانہ کی بنیادپر ہلاک اور زخمی کیے جارہے ہیں۔صوبائی کونسل ممبر داداللہ قانی کے مطابق رات گئے فارہ کے ضلع خاکی سفید میں ہونے والا حملہ بدھ کی رات شروع ہوا اور 4 گھنٹوں تک جاری رہا۔کابل کے رکنِ اسمبلی سمیع اللہ شمیم کا کہنا تھا کہ طالبان نے چوکیوں پر مامور تمام 30 پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا جس میں ضلعی پولیس کمانڈر بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق رد عمل کے طور پر کیے گئے فضائی حملے میں 17 جنگجو مارے گئے اس کے باوجود وہ بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔غزنی کے رکنِ اسمبلی محمد عارف کا کہنا تھا کہافغان صوبے غزنی کے 2 اضلاع میں طالبان کے ساتھ جاری شدید لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی کرچکے ہیں جس میں اکثریت ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے علاوہ افغان پولیس، مقامی پولیس، ملیشیا کے اہلکار اور فوجیوں سمیت تقریبا 100 اہلکار ہولناک تصادم میں مارے جاچکے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت افغان سیکیورٹی فورسز ملک کے 34 میں سے 22 صوبوں میں برسرِ پیکار ہیں۔خیال رہے کہ افغان جنگ شہریوں کے لیے انتہائی ہولناک ہوتی جارہی ہے، اقوامِ متحدہ کی رواں سال پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 2018 کے ابتدائی 6 ماہ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 2009 سے اب تک کسی بھی ایک سال میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد سے زیادہ ہےجب سے اقوامِ متحدہ نے شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار اکھٹے کرنے شروع کیے ہیں۔افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ 2018 کے ابتدائی 6 ماہ میں روزانہ اوسطا 2 بچوں سمیت 9 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دفاعی تجزیہ کار جاوید کوہستانی کے مطابق ملک میں چوکیوں پر تعینات سیکیورٹی فورسز کو اسلحے، گولہ بارود سمیت خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے جس کے لیے انہوں نے حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تجربہ کار جرنیلوں کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی جگہ غیر تجربہ کار افراد نے لے لی ہے جبکہ فوج میں بھرتیوں کی بھی صورتحال خاصی خراب ہے، جہاں سے 4 سو سے 6 سو افراد بھرتی ہونے چاہیے وہاں صرف 100 سے 2 سو افراد بھرتی ہوتے ہیں کوئی فوج میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

موضوعات:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*