حکومت کی حماقت نے گائے کے ایشو کو حکومت اور عدلیہ دونوں کی عزت کا مسئلہ بنا دیا۔اعظم سواتی اور خانہ بدوشوں میں اصل تنازعہ کیاتھا؟غلطی کس کی ہے اور اس تنازعے کے نتائج ملک کیلئے کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں؟جاوید چودھری کا تجزیہ

خواتین وحضرات ۔۔انگریز کے دور میں ایک بار لاہور میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر نے دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی‘ وہ تحریکوں کا زمانہ تھا چنانچہ لاہور کے شہری دفعہ ایک سو چوالیس توڑ کر گورنر ہاؤس کے سامنے جمع ہو گئے‘ یہ خبر جب دہلی میں والسرائے تک پہنچی تو (اس) نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو معطل کیا‘ دہلی (بلایا) اور (اسے) وہاں سے لندن واپس بھجوا دیا‘ والسرائے کا کہنا تھا حکومت رٹ کا نام ہوتی ہے اوراگر ایک بار حکومت کی رٹ چیلنج ہو جائے تو پھر گورنمنٹ گورنمنٹ نہیں رہتی‘ (اس) کا کہنا تھا

حکومت کو کبھی وہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جسے وہ منوا نہیں سکتی اور ڈپٹی کمشنر نے یہی غلطی کی‘ یہ جب جانتا تھا لوگ ہر صورت میں قانون کی ۔۔خلاف ورزی کریں گے لہٰذا پھر ۔۔اسے دفعہ ایک سو چوالیس نہیں لگانی چاہیے تھی اور اگر لگادی تھی تو پھر ۔۔اسے ہر صورت ۔۔اس پر عمل کرانا چاہیے اور ڈی سی ۔۔ان دونوں میں ناکام ہو گیا۔ میرا خیال ہے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اعظم سواتی دونوں ایڈمنسٹریشن کے ۔۔ اس اصول سے واقف نہیں تھے ورنہ یہ فارم ہاؤس کے پیچھے موجودہ خانہ بدوشوں اور اعظم سواتی کے ملازمین کے درمیان جھگڑے اور ایک گائے کے ایشو کو وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے اختیارات کا مسئلہ نہ بناتے‘ خانہ بدوشوں اور اعظم سواتی کے ملازمین کے درمیان جھگڑا ہواتھا‘ اعظم سواتی نے ۔۔اس جھگڑے کو حکومت اور آئی جی کے درمیان لڑائی بنا دیا اور وزیراعظم نے ایس ایم ایس پر آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کر کے ۔۔اسے ایگزیکٹو اور جوڈیشری کا تنازعہ بنا دیا‘ اب حالات یہ ہیں اگر وزیراعظم کے حکم کے بعد بھی آئی جی تبدیل نہیں ہوتا تو ایگزیکٹو کی رٹ ختم ہوجائے گی‘کل سے کوئی بیورو کریٹ حکومت کی بات نہیں مانے گا‘ کوئی افسر وزراء کا فون نہیں (سنے) گا اور اگر یہ آئی جی تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر ملک کی سب سے بڑی عدالت کی عزت ختم ہو جائے گی‘ کل سے کوئی عدالت کے احکامات نہیں مانے گا چنانچہ آپ حکومت کی حماقت دیکھئے ۔۔اس نے گائے کے ایشو کو حکومت اور عدلیہ دونوں کی عزت کا مسئلہ بنا دیا۔ غلطی کس کی ہے اور حکومت کو آئندہ کیا کرنا چاہیے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگاجبکہ آج وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے فرمایا کہ آئی جی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو جواب دہ ہے وزیراعظم کے ایگزیکٹو اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر کا فون نہ اُٹھائیں اگر معاملات بیورو کریسی سے چلوانے تھے تو الیکشن کروانے کی کیا ضرورت تھی؟۔کل سپریم کورٹ نےبیورو کریٹس کو حکم دیا تھاکہ وہ کسی کا بھی غیرقانونی حکم ماننے سے انکار کر دے اور آج فواد چودھری کا یہ بیان کیا ہم ۔۔اسے حکومت کی طرف سے عدلیہ کو دھمکی سمجھیں اور بیورو کریٹس حکومت کے ملازم ہیںیا پھر ریاست کے اور ۔۔انہیں کیا کرنا چاہیے اور عوام پر پٹرول بم کا خطرہ بھی منڈلانے لگا‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*