رات بھر جاگنا یاداشت کیلئے نقصان دہ ہے: تحقیق

انگلینڈ(مانیٹرنگ  ڈیسک) ہمیں امتحانات میں اکثر دیکھتے ہیں کہ طالب علم ایک رات قبل جاگ کر وہ سب کچھ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے وہ کئی ماہ میں بھی نہیں پڑھ پاتے۔ رات میں نیند پوری کرنا انسانی صحت کے لیے بہت ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ رات کی نیند کیوں ضروری ہے اس چیز کو جاننے اور سمجھنے کے لیے نیورو سائنسدانوں نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔انگلینڈ کی رائل ہولووے یونی ورسٹی کے سائیکالوجی کے لیکچرار جیک تامینن کے پا س بھی کچھ ایسے ہی طا لب علم ہیں جو امتحان سے ایک رات قبل جاگتے ہیں

تاکہ زیادہ سے زیادہ باتیں ذہن نشین رکھ سکیں۔ جیک کے مطابق طالب علم اپنے ساتھ اس سے زیادہ برا نہیں کر سکتے کیونکہ رات کی نیند سیکھی گئی نئی باتوں کو ذہن نشین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جیک کے تحقیقی پراجیکٹ میں شامل لوگو ں نے کچھ نئے الفا ظ سیکھے اور پھر تمام رات جاگے۔ جیک نے یاد کیے گئے الفاظ کے لیے ان کی یاداشت چند راتوں کے بعد اور پھر چند ہفتوں کے بعد جانچی۔ رات کی نیند پوری کرنے والوں میں حافظے کی صورت حال، رات کی نیند پوری نہ کر نے والوں کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر تھی۔ جیک کا کہنا ہے کہ نیند سیکھنے کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ‘اگرچہ سوتے ہوئےآ پ پڑھتے نہیں ہیں مگر آپ کا دماغ آپ کی جگہ کام کرتے ہوئے دماغ پڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے جو کچھ بھی آپ نے پڑھا ہے اسے اپنے حافظے کا حصہ نہیں بنا سکیں گے جب تک آپ نیند پوری نہ کر لیں۔’ جیک نے اپنی تحقیق کے لیے خصوصی کمرہ بنایا ہے جس میں بستر کے اوپر ایک چھوٹی ای ای جی مشین لگی ہو ئی ہے جو الیکٹروڈز کے ذریعے بستر پر سوئے ہوئے شخص کے دماغ کی صورت حال جانچتی رہتی ہے۔ یہ الیکٹروڈز نہ صرف دماغ کے مختلف حصوں کی نگرانی کرتے ہیں بلکہ تھوڑی اور آنکھ سی جنبش کو بھی نوٹ کرتے ہیں۔جیک کی تحقیق کا اہم حصہ گہری نیندکا دورانیہ، سلو ویو سلیپ (ایس ڈبلیو ایس) ہے تاکہ نیند اور یادادشت کے تعلق کو پرکھا جا سکے۔ یاداشت بنانے اور اسے برقرار رکھنے میں ایس ڈبلیو ایس کا اہم کردار ہے ۔ گہری نیند کے دوران دماغ دن بھر میں سیکھے گئے نئے الفاظ کے پرانے الفاظ سے تعلق جوڑنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ طب (میڈیسن اور فزیالوجی) کے نوبیل انعام یافتہ مائیکل ڈبلیو یانگ اس موضوع میں یکتا ہیں۔ان کے مطابق ‘گھر یا کام کی جگہ پر بہترین نتائج کے لیے آ پ کو صرف یہ کرنا ہے کہ آپ ایک متوازن ماحو ل پیدا کرنے کی کو شش کریں۔’ ایک ایسے شخص کے لیے جس کا زندگی گزارنے کا طریقہ، ماحول یا پھر نیند کا وراثتی مسئلہ ہو اسے نیند کے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔ وہ رات کو دبیز پردے اور دن میں روشن لائٹس کا استعمال کر سکتا ہے تاکہ ممکنہ حد تک رات اور دن کی مماثلت پیدا کی جا سکے۔اسی طرح بڑوں کے مقابلے میں بچوں کی نیند زیادہ گہری ہوتی ہے۔ بچوں کے جلدی سیکھنے کی اہم وجہ نیند بھی ہوسکتی ہے۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیوبنگن کی قائم شدہ چائلڈ سلیپ لیب نے بچوں میں نیند کے دوران یاداشت ترتیب دینے پر تحقیقات کی ہیں۔ کینیڈین سلیپ اینڈ سرکیڈئن نیٹ ورک بچوں میں دن کی نیند بھی اہم بتاتا ہے۔ ان کے مطابق دن کی نیند بچوں کے ذہن میں الفاظ کی تعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور یہ عمل نہ صرف بچپنبلکہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ‘نیند سے نہ صرف ذہن میں ذخیرہ شدہ معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے بلکہ دماغ کو باآسانی یاداشت سے معلومات کے اہم ترین حصے فوری سامنے لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔’ زنکے کے مطابق ‘نیند دراصل یاداشت کو مضبوط کرنے اور اسے سامنے لانے کا فعال عمل ہے ۔’ اس لیے آپ اگر اپنی یاداشت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آ ج سے یہ کہاوت بدل دیجیے ‘جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے’ اور اپنی نیند کا دورانیہ پورا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*