مستقبل میں کاریں اور ٹریفک سگنلز ایک دوسرے سے باتیں کریں گے

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) مستقبل میں کاریں اور ٹریفک کے اشاروں کے لیے لگی ہوئیں لائٹس ایک دوسرے سے باتیں کرتی نظر آئیں گی۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے مسائل بھی اسی تناسب کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، اور دنیا کے تمام ممالک ہی ان کے حل کے لیے نئے قوانین متعارف کرواتے رہتے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹریفک کے مسائلحل کرنے کے لیے دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیاں متحرک نظر آرہی ہیں۔  ویگن، ہونڈا، فورڈ اور بی ایم ڈبلیو جیسی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروائیں گی جس میں ٹریفک

سگنلز اور کاریں آپس میں باتیں کرتی دکھائی دیں گی۔  اڑتی کاریں – روڈ پر دوڑتے جہاز اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریفک لائٹس مستقبل میں ڈرائیورز کو اپنے اشارے کے ذریعے اطراف کی صورتحال سے آگاہ کریں گی۔ ڈرائیورز کو قبل از وقت آگاہ کردیا جائے گا کہ ان کے راستے میں نصب ٹریفک سگنلز کتنی دیر بعد بند ہونے والے ہیں، یعنی کہ ڈرائیورز کو اس بات کا اندازہ ہوسکے گا کہ ان کے سفر کے دوران مزید کتنے ٹریفک سگنلز آئیں گے اور ان تک پہنچنے میں وہ بند ہوں گے یا کھلے رہیں گے۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کا مقصد ٹریفک حادثات سے بچنا، دھوئیں کے اخراج میں کمی لانا اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ ووکس ویگن نے سمنز کمپنی کے ساتھ مل کر جرمنی کے ایک شہر وولفس برگ کے ایک ٹریفک سیکشن پر اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا۔ ووکس ویگن کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو اپنی کاروں میں آئندہ برس سے نصب کرنا شروع کردیا جائے گا، جس کا مقصد گاڑی کو غیر ضروری طور پر روکنے یا چلانے پر دھوئیں کے اخراج کو روکنا بھی ہے۔ کیونکہ گاڑی کو سگنلز کی وجہ سے بار بار روکنے اور چلانے کی وجہ سے دھوئیں کا زیادہ اخراج ہوتا ہے جبکہ گاڑی کی کارکردگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ بی ایم ڈبلیو نے فروخت شدہ 10 لاکھ کاریں واپس منگوالیںمذکورہ ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی کا ڈرائیور اس بات کا اندازاہ لگا سکتا ہے کہ اس کے اطراف میں ٹریفک کتنا ہے یا پھر اس کے دائیں یا بائیں جانب مڑتے ہوئے روڈ پر ٹریفک کتنا اور اس کی رفتار کتنی ہے۔ووکس ویگن اور سیمنز نے اپنے تجربے میں راہگیروں اور سائیکل سواروں کی پوزیشن کا سینسرز کی مدد سے پتہ لگایا۔ اسی طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال ہونڈا نے اوہائیو میں ایک ٹریفک سیکشن پر آلات نصب کرکے کیا جس کو انہوں نے ’اسمارٹ انٹرسیکشن‘ کا نام دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*