نئی پابندیوں کی تلوار سَر پر : ایران انرجی ایکسچینج میں تیل فروخت کرنے لگا

تہران(این این آئی) ایران نے نِجی کمپنیوں کو10 لاکھ بیرل خام تیل کی فروخت کے لیے انرجی ایکسچینج کا سہارا لے لیا ہے۔ تہران کی جانب سے فی بیرل قیمت 74.85 ڈالر رکھی گئی جو ابتدائی مطلوبہ قیمت سے چار ڈالر کم ہے۔ ایران کی جانب سے ایکسچینج میں پیش کیے جانے والے مجموعی حجم میں سے 2.8 لاکھ بیرل فروخت ہو چکا ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تیل نجی کمپنیوںکے ایک گروپ نے بروکروں کے ذریعے خریدا ہے تاہم ان کمپنیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ان پابندیوں میں ایرانی معیشت کے طاقت ور ترین سیکٹروں کو ہدف

بنایا گیا ہے۔ ایرانی نظام اپنے خاص ایجنڈے کی پالیسیوں کو پھیلانے میں ان سیکٹروں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔نئی پابندیوں کا تیر انرجی سیکٹر بالخصوص تیل کے شعبے کے قلب میں جا کر پیوست ہو گا۔ تہران کا یہ بنیادی ستون پابندیوں کے نافذ العمل ہونے سے پہلے ہی ڈانواں ڈول ہونا شروع ہو گیا ہے کیوں کہ کئی کمپنیاں ابھی سے ایرانی تیل کی خرید سے اجتناب برت رہی ہیں۔علاوہ ازیں نئی پابندیوں میں جہاز رانی اور بندرگاہوں کا شعبہ بھی نشانہ بنے گا جس میں جہاز سازی کی صنعت بھی شامل ہے۔ اس طرح تہران کو خطّے میں اپنے حلیفوں کے لیے اسلحے کی اسمگلنگ میں سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ایران کا مالیاتی سیکٹر تو پابندیوں کے پہلے مرحلے سے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایرانی مرکزی بینک اور اس کے مالیاتی لین دین پر مزید قدغن عائد ہو جائے گی۔امریکی کانگریس کے نزدیک یہ تمام پابندیاں ناکافی ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے سینئر ارکان اور اس کے باہر مشیروں کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران پر انتہائی دباؤ کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کریں۔ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں میں بعض دیگر شقیں شامل کی جائیں۔ ایسی شقیں جو عالمی مالیاتی نظام سے ایران کی مکمل علاحدگی کو یقینی بنا دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*