وہ 15عادات جو آپ کو جلد بوڑھا کر دیتی ہیں،ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

فن لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ عہد میں قبل از وقت بڑھاپا طاری ہوجانا ایک عام چیز بن چکا ہے اور اس کی وجوہات آپ کی اپنی چند عادات ہوتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنی موجودہ عمر کے مقابلے میں زیادہ بڑی عمر کے نظر آتے ہیں یا نہیں؟ اگر آپ آئینے میں ایسا منظر دیکھنا نہیں چاہتے تو اپنی روزمرہ کی عادات میں تبدیلی لانا ہی سب سے بہترین طریقہ کار ثابت ہوگا۔خوراک اور نیند وغیرہ بھی آپ کے چہرے کو بوڑھا جبکہ زندگی کی مدت کو کم کردیتے ہیں۔ ایسی چند عادات کے بارے میں جانئے

جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔ صحت مند عادات جو بڑھاپا طاری نہ ہونے دیں ایک وقت میں بہت سارے کام یا ملٹی ٹاسک اگر آپ ہر وقت متعدد کام بیک وقت کرنے کے عادی ہیں تو اس مصروف زندگی کے تناﺅ کی قیمت آپ کے جسم کو ادا کرنا پڑے گی۔ متعدد سائنسی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکے ہے کہ بہت زیادہ تناﺅ جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے اور عمر کی رفتار بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں ایک کام کرے اور اسے مکمل کرنے کے بعد ہی کسی اور چیز پر توجہ دیں۔ مٹھاس کا بہت زیادہ استعمال میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے اور آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ابھر آتے ہیں۔ اسی طرح جھریاں اور ہلکی لکیریں بھی چہرے کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ تو میٹھی اشیاءسے کچھ گریز آپ کے چہرے کی چمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کم نیند کم سونا نہ صرف آنکھوں کے گرد بدنما حلقوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ زندگی کی مدت بھی کم کردیتا ہے۔ روزانہ سات گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت دن بھر کم توانائی، ذہنی سستی، توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات یا موٹاپے وغیرہ کا سبب بن جاتی ہے۔ خود کو بوڑھا سمجھنا عمر بڑھنے سے بڑھاپا طاری نہیں ہوتا بلکہ خود کو بوڑھا سمجھنا اس کی سب سے بڑی وجہ ہے، جب تک آپ خود کو جوان سمجھتے ہیں، تو زیادہ پرامید، زیادہ ورزش اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں۔ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ خود کو حقیقی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے ہیں ان کے ہسپتال پہنچنے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا آج کل لوگوں کا کافی وقت ٹی وی پروگرامز دیکھتے ہوئے گزرتا ہے مگر برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک گھنٹے تک لگاتار ٹی وی دیکھنا بائیس منٹ کی زندگی کم کردیتا ہے۔اسی طرح جو افراد روزانہ اوسطاً چھ گھنٹے ٹی دیکھتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں پانچ سال کم زندہ رہ پاتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ ٹی وی دیکھنے کیلئے آپ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں، جس کے باعث جسم شوگر کو ہمارے خلیات میں جمع کرنا شروع کردیتا ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہو تو۔ہر تیس منٹ بعد کچھ دیر کیلئے اٹھ کر چہل قدمی بھی کریں۔  16 غذائیں جو بڑھاپے کی جانب سفر سست کریں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے یا سست طرز زندگی کے عادی افراد میں موٹاپا کا خطرہ تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ گردوں اور دل کے امراض کیساتھ ساتھ کینسر کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر خود کو صحت مند رکھنا ہو تو روزانہ ورزش کی عادت کو پانان سب سے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔بہت زیادہ میک اپ کا استعمال چہرے پر بہت زیادہ میک اپ کا استعمال بڑھاپے کی جانب آپ کا سفر بھی تیز کردے گا۔ بہت زیادہ میک اپ خاص طور پر تیل والی مصنوعات جلد میں موجود ننھے سوراخوں یا مساموں کو بند کرکے مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی طرح جلدی مصنوعات کا الکحل اور کیمیکل سے بنی خوشبو کے ساتھ استعمال سے جلد سے قدرتی نمی ختم ہوجاتی ہے اور وہ خشک ہوجاتی ہے۔جس سے قبل از وقت جھریاں ابھر آتی ہیں۔ نیند کے دوران چہرہ تکیے پر رکھنا پیٹ کے بل یا ایک سائیڈ پر لیٹ کر سونے سے آپ کا چہرہ تکیے میں دب کر رہ جاتا ہے اور جھریاں ابھرنے کیساتھ بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چہرہ مسلسل تکیے میں دبا رہے تو وہ اندر سے کمزور ہوجاتا ہے اور موجودہ عمر کے مطابق نظر نہیں آتا۔ اگر ایسا مسلسل کیا جائے تو جلد ہموار نہیں رہتی۔دوسروں کے لیے کینہ رکھنا زندگی میں لوگوں سے لڑائی تو ہو ہی جاتی ہے مگر اس تلخی اور غصے کو اپنے اندر چھپائے رکھنا زندگی کے کئی برس کم کردیتا ہے، درحقیقت کینہ رکھنا اتنا بڑا جسمانی دباﺅ ہوتا ہے جو کہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے، ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ دیگر کےے لیے اپنے اندر کینہ رکھتے ہیں، ان میں بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ ڈپریشن کا احساس بھی بڑھتا ہے۔اسٹرا کے ذریعے مشروب پینا کسی مشروب کو اسٹرا کے ذریعے پی کر آپ دانتوں کو تو داغ لگنے سے بچاسکتے ہیں مگر ہونٹ سکڑنے کا یہ عمل آنکھوں اور چہرے کے ارگرد جھریاں پڑنے کا سبب ضرور بن جاتا ہے۔ ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب سیگریٹ نوشی کی جائے۔ اپنی خوراک سے چربی کا استعمال مکمل ختم کردینا خوراک میں کچھ حد تک چربی کا استعمال شخصیت میں جوانی کے اظہاراور احساس کیلئے ضروری ہوتا ہے۔اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی اور کچھ نٹس جیسے اخروٹ وغیرہ جلد کو نرم و ملائم اور جھریوں سے بچاتے ہیں، جبکہ دل اور دماغ کی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ جنک فوڈ اور تمباکو نوشی کا شوق جو نوجوان سگریٹ نوشی اور فاسٹ فوڈ کھانے کے عادی ہوتے ہیں، انہیں قبل از وقت بڑھاپے کے لیے تیار ہوجانا چاہئے۔ فن لینڈ کی رکو یونیورسٹیکی تحقیق میں بتایا گیا۔ جو نوجوان تمباکو نوشی اور فاسٹ فوڈ کے عادی ہوتے ہیں، ان کے دماغ قبل از وقت بڑھاپے کے شکار ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ناقص طرز زندگی اور غذائی عادات نوجوانوں کی ذہنی نشوونما کو ڈرامائی حد تک متاثر کرتی ہے۔ جھک کے بیٹھنا اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے کی بورڈکے سامنے گھنٹوں کمر جھکا کر بیٹھے رہنے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی بدنما کبڑے پن کی شکل میں ڈحل جاتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ ہڈی متوازن ایس شکل کے جھکاﺅ کی حامل ہوتی ہے تاکہ ہم چلنے پھرنے میں مشکل نہ ہو۔ مگر گھنٹوں تک جھکے رہنے سے قدرتی شکل تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے پٹھے اور ہڈیاں غیرمعمولی دباﺅ کا شکار ہوکر قبل از وقت بوڑھوں کی طرح چلنے پھرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔باربی کیو کا شوق سیخوں پر بننے والا گوشت کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے خاص طور پر اگر بہت زیادہ کھانا عادت بنالی جائے۔ ایسا گوشت جو کھلی آنچ میں بہت زیادہ درجہ حرارت میں پکایا جائے، اس میں کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز بننے کا خطرہ بڑھتا ہے، جو کہ جسم میں ڈی این اے میں تبدیلی لاکر کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ ہیڈفونز کا والیوم زیادہ رکھنا اگر ہیڈفون اتارنے پر آپ کو کانوں میں گھنٹیاں بجتی محسوس ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت اونچی آواز میں گانے سنتے رہے ہیں، اگرچہ سننے کی صلاحت فوراً معمول پر آجاتی ہے مگر بتدریج یہ عادت کانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے، طویل وقت تک یا بار بار 85 ڈیسی بل سے زیادہ آواز کو سننا بہرے پن کا باعث بن سکتی ہے۔

موضوعات:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*