2019ء کے 356 ارب یورو کے سرپلس وفاقی جرمن بجٹ پر اتفاق رائے ہوگیا

برلن(این این آئی)جرمنی میں اگلے سال کے 356.4 ارب یورو مالیت کے قومی بجٹ پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ یہ بجٹ سال رواں کے مقابلے میں 13 ارب یورو زیادہ ہے، جس میں دفاع، داخلی سلامتی اور خاندانی بہبود پر سرکاری اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بجٹ پر اتفاق رائے کے لیے وفاقی جرمن پارلیمان کی بجٹ کمیٹی کے اجلاس 15 گھنٹے تک جاری رہا۔اور اس کی منظوری طویل مذاکرات اور بجٹ تجاویز میں کئی بار کے رد و بدل کے بعد ممکن ہو سکی۔ سال 2019ء کے لیے اس وفاقی بجٹ کی

متعلقہ پارلیمانی کمیٹی نے منظوری گزشتہ روز دی۔ اس بجٹ کی صورت میں چانسلر میرکل کی سربراہی میں جرمن حکومت ایک بار پھر اپنا یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی کہ اسے کوئی نئے سرکاری قرضے نہ لینا پڑیں۔ان مالیاتی تجاویز میں دفاعی شعبے کے اخراجات میں واضح اضافے کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی ترویج اور چند دیگر شعبوں میں بھی سرکاری اخراجات کے لیے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ رقوم رکھی گئی ہیں۔ بجٹ کی کل مالیت 356.4 ارب یورو (404.3 ارب ڈالر) ہو گی، جو مالی سال 2018ء کے مقابلے میں 13 ارب یورو زیادہ ہے۔ ایسا مسلسل چھٹی مرتبہ ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے خسارے کا بجٹ ترتیب نہیں دیا۔ آئندہ سالانہ بجٹ میں دفاع، داخلی سلامتی، ترقی کے لیے مالیاتی تعاون، بنیادی ڈھانچے کو جدید تر بنانے اور خاندانی فلاح و بہبود کے لیے رواں برس کے مقابلے میں زیادہ رقوم رکھی گئی ہیں۔جرمن وزارت دفاع کو 2019ء میں 43.23 ارب یورو مہیا کیے جائیں گے اور ان رقوم سے جرمن نیوی کے لیے نئے بحری جہاز اور وفاقی جرمن فوج کے لیے نئے ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر بھی خریدے جائیں گے۔ اس سال جرمن بجٹ میں دفاع کے لیے مجموعی طور پر 38.5 ارب یورو رکھے گئے تھے۔ اگلے برس کے سالانہ بجٹ کا سب سے بڑا حصہ بھی وزارت محنت اور سماجی امور کو مہیا کیا جائے گا۔ اس سال کے بجٹ میں اس مد میں مختص کردہ رقوم کے مقابلے میں اگلے برس 6.1 ارب یورو زیادہ مہیا کیے جائیں گے۔ آئندہ سال وزارت محنت اور سماجی امور کا کْل بجٹ 145.3 ارب یورو ہو گا۔ ان بجٹ تجاویز میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جرمنی میں ہر خاندان کوفی بچہ جو ماہانہ چائلڈ الاؤنس دیا جاتا ہے، 2019ء میں اس میں بھی مزید ایک بار اضافہ کر دیا جائے گا۔ ان بجٹ تجاویز میں یہ بھی طے ہو گیا ہے کہ جرمنی کی مختلف وزارتوں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی تعداد میں آئندہ برس واضح اضافہ کر دیا جائے گا۔ مختلف سرکاری محکموں اور وزارتوں میں جو نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی، ان کی تعداد پونے نو ہزار بنتی ہے۔ملکی اپوزیشن نے اس بجٹ مسودے کو ناقص قرار دیا ہے۔ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے مالیاتی امور کے ترجمان سوَین کرسٹیان کِنڈلر نے کہا کہ چانسلر میرکل کی جماعت سی ڈی یو، اس پارٹی کی ہم خیال صوبے باویریا کی قدامت پسند جماعت سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹس کی پارٹی ایس پی ڈی پر مشتمل موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت میں یہ خواہش اور اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ وفاقی بجٹ میں سرکاری رقوم کے استعمال کے حوالے سےکسی بنیادی تبدیلی کے بارے میں سوچ سکیں۔اسی طرح فری ڈیموکریٹس کی پارٹی ایف ڈی پی کے مالیاتی امور کے ترجمان رہنما اَوٹو فرِکّے نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں یہ حکومتی فیصلہ غلط ہے کہ کوئی نیا سرکاری قرضہ تو نہ لیا جائے لیکن ایسا کرنے کے لیے ملک میں مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کے لیے رکھی گئی رقوم میں قریب نصف ارب یورو کی کمی کر دی جائے۔جرمنی میں چانسلر میرکل ہی کی قیادت میں 2014ء میں 1969ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ وفاقی حکومت نے ایسا سالانہ بجٹ پیش کیا تھا، جس کے لیے کوئی نیا سرکاری قرضہ نہیں لیا گیا تھا۔ اخراجات کے آمدنی کے برابر رکھے جانے کے اس عمل کو شماریاتی حوالے سے بلیک زیرو اس لیے کہتے ہیں کہ بجٹ میں نئے حکومتی قرضوں کے طور پر ایسی رقوم شامل نہیں ہوتیں، جنہیں عدم دستیاب مالی وسائل ہونے کی وجہ سے سرخ رنگ میں لکھا جا سکے۔2014ء کے بعد 2019ء اب ایسا مسلسلچھٹا سال ہو گا کہ برلن میں وفاقی حکومت نے ایسا سالانہ بجٹ پیش کیا، جو خسارے کا بجٹ نہیں اور جس میں حکومتی اخراجات کو سرکاری آمدنی سے زیادہ نہیں ہونے دیا گیا۔وفاقی پارلیمان کی بجٹ کمیٹی کی طرف سے منظوری کے بعد اگلے برس کا یہ سالانہ بجٹ اب وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی بنڈس ٹاگ میں پیش کیا جائے گا، جہاں ارکان اس پر بحث کے بعد اس کی منظوری دیں گے۔ توقع ہے کہ اسی مہینے کی 23 تاریخ کوبنڈس ٹاگ میں 2019ء کا یہ سالانہ جرمن بجٹ منظور ہو جائے گا۔

موضوعات:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*